Friday, 24 July 2020

سیر کرنے سے ہوا لینے سے

سیر کرنے سے ہوا لینے سے
کام ہے دل کو مزا لینے سے
دھوپ سائے کی طرح پھیل گئی
ان درختوں کی دعا لینے سے
اس طرح حال کوئی چھپتا ہے
اس طرح زخم چھپا لینے سے
کوئی مقبول دعا ہوتی ہے
صرف ہاتھوں کو اٹھا لینے سے
میرے جیسا وہ نہیں ہو سکتا
میرا انداز چرا لینے سے
رات کچھ اچھی گزر جاتی ہے
چاند کو چھت پہ بلا لینے سے
وقت بے وقت کا آزار ملا
وقت کو ساتھ لگا لینے سے
آج بھی نام وہی ہے اپنا
کیا ہوا نام کما لینے سے

کاشف حسین غائر

No comments:

Post a Comment