Tuesday, 3 August 2021

لہروں پہ زلف یار کا سایہ نہیں رہا

 لہروں پہ زلفِ یار کا سایہ نہیں رہا

اب پہلے جیسی موج میں دریا نہیں رہا

ڈھلنے لگے ہیں سارے جوانی کے رنگ ڈھنگ

وہ میں نہیں، وہ حُسنِ تماشا نہیں رہا

کاہے خلل بھی ڈالا ہے اس کے خرام میں

میں صرف اس کی راہ میں بیٹھا نہیں رہا

پہلے ہزار وہم تھے، سو سو گمان تھے

بچھڑا ہے وہ تو اب کوئی دھڑکا نہیں رہا


اعجاز نعمانی

No comments:

Post a Comment