Tuesday, 3 August 2021

سانپ ہوتا ہے ہر خزانے میں

 ہجر موجود ہے فسانے میں

سانپ ہوتا ہے ہر خزانے میں

رات بکھری ہوئی تھی بستر پر

کٹ گئی سلوٹیں اٹھانے میں

رزق نے گھر سنبھال رکھا ہے

عشق رکھا ہے سرد خانے میں

رات بھی ہو گئی ہے دن جیسی

گھر جلانے کے شاخسانے میں

روز آسیب آتے جاتے ہیں

ایسا کیا ہے غریب خانے میں

ہو رہی ہے ملازمت فیصل

رائیگانی کے کارخانے میں


فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment