Thursday, 11 May 2023

چهوڑ پردیس کو گهر چلتے ہیں

 چهوڑ پردیس کو گهر چلتے ہیں

اپنے پیاروں کے نگر چلتے ہیں

بجتی ہو امن کی شہنائی جہاں

چل مِرے دوست ادهر چلتے ہیں

گر ندامت ہے تو پهر ان کے حضور

ہو کے با دیدۂ تر چلتے ہیں

سانس چلتی ہے مگر ہوش نہیں

نیند میں جیسے بشر چلتے ہیں

دهوپ چهاؤں کی پہیلی کیا ہے

کس لیے شمس و قمر چلتے ہیں

اے اجل! ٹهہر ذرا ان کو بهی

دیکھ لیں ایک نظر، چلتے ہیں

گو کہ ہم آبلہ پا ہیں احمد

تُو چلے ساتھ اگر چلتے ہیں


احمد جہانگیر داجلی

No comments:

Post a Comment