Wednesday, 7 September 2016

یہ رنگ گلاب کی کلی کا

یہ رنگ گلاب کی کلی کا
نقشہ ہے کسی کی کم سِنی کا
بلبل کی بہار میں نہ پوچھو
منہ چومتی ہے کلی کلی کا
غنچوں کو صبا نے گُدگُدایا
دشوار ہے ضبط اب ہنسی کا

سخت نازک مزاج دلبر تھا

سخت نازک مزاج دلبر تھا
خیر گزری کہ دل بھی پتھر تھا
مختصر حالِ زندگی یہ ہے
لاکھ سودا تھا، اور اک سر تھا
ان کی رخصت کا دن تو یاد نہیں
یہ سمجھئے کہ روزِ محشر تھا

ناز بھی ہوتا رہے ہوتی رہے بیداد بھی

ناز بھی ہوتا رہے  ہوتی رہے بے داد بھی
سب گوارا ہے جو تم سنتے رہو فریاد بھی
ایک آفت ہیں حسینانِ ستم ایجاد بھی
کرتے ہیں بیداد مجھ پر چاہتے ہیں داد بھی
وقت پڑتا ہے تو کوئی آشنا ہوتا نہیں
دشمنِ فرہاد نکلا تیشۂ فرہاد بھی

Tuesday, 6 September 2016

بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے

بکھرے تو پھر بہم مِرے اجزا نہیں ہوئے
سرزد اگرچہ معجزے کیا کیا نہیں ہوئے
جو راستے میں کھیت نہ سیراب کر سکے
کیوں جذب دشت ہی میں وہ دریا نہیں ہوئے
انسان ہے تو پاؤں میں لغزش ضرور ہے
جرمِ شکستِ جام بھی بے جا نہیں ہوئے

بیگانہ وار ایک یگانہ چلا گیا

بے گانہ وار ایک یگانہ چلا گیا
دیتا صدائیں خانہ بہ خانہ چلا گیا
کوئی قلم نہ گم ہے کتاب اِسکے باوجود
افسوس عِلم کا وہ خزانہ چلا گیا
تھی زندگی قریب اِسے ڈھونڈنے کہاں
ہر ایک شخص ہو کے روانہ چلا گیا

ہمدم نہ ڈر کہاں کا زمانہ کہاں کے لوگ

ہمدم! نہ ڈر، کہاں کا زمانہ، کہاں کے لوگ
حائل نہ کب دلوں میں ہوئے درمیاں کے لوگ
ہے تیری آنکھ سے بھی زیادہ کہیں نشہ
پھر کیوں نیاز مند ہیں پیرِ مغاں کے لوگ
رخسار و لب کا عالم گل آفریں نہ پوچھ
قائل نہیں رہے سحرِ گلستاں کے لوگ

دشمن و دوست چند رکھتے ہیں

دشمن و دوست چند رکھتے ہیں
یہ مگر عقل مند رکھتے ہیں
واعظوں کی زباں ہے وا ہم پر
اور خود کان بند رکھتے ہیں
حسن کے سلسلے میں اہلِ نظر
اپنی اپنی پسند رکھتے ہیں