Thursday, 20 May 2021

خون کے دیپ فصیلوں پہ جلا رکھے ہیں

خون کے دیپ فصیلوں پہ جلا رکھے ہیں

اپنے انداز زمانے سے جدا رکھے ہیں

دل میں امید نہیں لب پہ کوئی بات نہیں

ہاتھ پھر بھی تو دعاؤں کو اٹھا رکھے ہیں

گھل رہا ہے کہ وہ اوروں کو بتائے کیسے

خواب گونگے نے بھی آنکھوں میں بسا رکھے ہیں

یہ الگ بات کہ اظہار تلک آ نہ سکے

دل میں جذبات مگر بیش بہا رکھے ہیں

اپنی عمروں کا لہو دے کے انہیں پالا ہے

ہم نے تو درد بھی بیٹوں سے سوا رکھے ہیں

کوئی وعدہ ہی نہیں ہے کہ کوئی آئے گا

جانے کیوں راہ میں دل پھول کھلا رکھے ہیں

کتنے ڈرپوک ہیں عرفی! یہ قبیلے والے

گزرے وقتوں کے سبھی قرض اٹھار کے ہیں


سمیع اللہ عرفی

No comments:

Post a Comment