Wednesday, 5 May 2021

کوئی محروم محبت نہ رہا میرے بعد

 کوئی محرومِ محبت نہ رہا میرے بعد

رنگ لائی مِری تاثیرِ دعا میرے بعد

آج عیسٰی کی طرح دار پہ کھینچے ہے مجھے

مجھ پہ روئے گی یہ مخلوقِ خدا میرے بعد

میرے مٹنے سے ہوئے گویا قفس سے آزاد

نہ رہا کوئی گرفتارِ بلا میرے بعد

ایسی روٹھی ہے مشیّت سے تری ربِ کریم

پھر چمن میں نہ گئی بادِ صبا میرے بعد

فاتحہ کے لیے آیا تھا وہ ہمراہ رقیب

خوب دی اس نے محبت کی سزا میرے بعد

صبح دم آتی ہے اس سوختہ سامانی میں

باغ سے نالۂ بلبل کی صدا میرے بعد

میری جانب سے کوئی جا کے کہے مجنوں سے

خاکِ صحرائے تمنا نہ اُڑا میرے بعد

اس نے احباب سے پوچھا ہے مِرے گھر کا پتا

یاد آیا اسے پیمانِ وفا میرے بعد

وہ جو لکھا تھا کبھی خونِ جگر سے میں نے

مٹتا جاتا ہے وہی نقشِ وفا میرے بعد

تجھ پہ الزامِ محبت نہ لگا دے دنیا

آ کے تُربت پہ یوں آنسو نہ بہا میرے بعد

رنج تو یہ ہے مظفر کہ وہ پیمان شکن

لب پہ لایا نہ کبھی حرفِ دعا میرے بعد


مظفر احمد

No comments:

Post a Comment