Wednesday, 4 August 2021

لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے

 لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے

سیکڑوں خون ہوں ہر گام پہ تلوار چلے

ناتوانی نے انہیں دریا پہ جانے نہ دیا

اٹھ کے سو بار گرے راہ میں سو بار چلے

تیرا کوچہ ہے وہ اے بت کہ ہزاروں زاہد

ڈال کے سبحہ میں یاں رشتۂ زنار چلے

اے شہِ حُسن مکدر نہ ہو گر تیرا مزاج

خاک اپنی بھی جلو میں پس رہوار چلے

سن کے یہ گرمئ بازار تیری اے یوسف

نقد جاں رکھ کے ہتھیلی پہ خریدار چلے

ہے یقیں حشر میں بھی ایک نیا محشر ہو

اُٹھ کے گر کاکلِ جاناں کے گرفتار چلے

فصلِ گُل آئی، اُٹھا ابر، چلی سرد ہوا

سوئے میخانہ اکڑتے ہوئے میخوار چلے


حبیب موسوی

No comments:

Post a Comment