لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے
سیکڑوں خون ہوں ہر گام پہ تلوار چلے
ناتوانی نے انہیں دریا پہ جانے نہ دیا
اٹھ کے سو بار گرے راہ میں سو بار چلے
تیرا کوچہ ہے وہ اے بت کہ ہزاروں زاہد
ڈال کے سبحہ میں یاں رشتۂ زنار چلے
اے شہِ حُسن مکدر نہ ہو گر تیرا مزاج
خاک اپنی بھی جلو میں پس رہوار چلے
سن کے یہ گرمئ بازار تیری اے یوسف
نقد جاں رکھ کے ہتھیلی پہ خریدار چلے
ہے یقیں حشر میں بھی ایک نیا محشر ہو
اُٹھ کے گر کاکلِ جاناں کے گرفتار چلے
فصلِ گُل آئی، اُٹھا ابر، چلی سرد ہوا
سوئے میخانہ اکڑتے ہوئے میخوار چلے
حبیب موسوی
No comments:
Post a Comment