عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر شہید معصوم
دنیا میں ہے اس بات کا چرچا علی اصغرؑ
ہیں تیر و کماں تیرا کھلونا علی اصغرؑ
تلوار تبسم تو فرس دستِ شہِؑ دیں
کس شان سے رن میں ہے اترتا علی اصغرؑ
خامہ ہے مؤذن تو ہر اک لفظ نمازی
ہے نام تیرا قبلہ و کعبہ علی اصغرؑ
چلنے کا ہنر دین کو آتا نہ کبھی بھی
گر کرب و بلا میں نہیں ہوتا علی اصغرؑ
ہونٹوں پہ سجایا جو تیرا اسمِ مقدس
گلشن میں بدلتا گیا صحرا علی اصغرؑ
اسلام کے چہرے پہ جو مسکان سجی ہے
ہے تیری عنایت تیرا صدقہ علی اصغرؑ
معراج ہوئی کیوں نہ اسے تیرے لبوں کی
پانی کو ہے خود سے یہی شکوہ علی اصغرؑ
آتا تھا میرا نام تیرے نام سے پہلے
لکھا ہی نہیں اس لیے مقطع علی اصغرؑ
وسیم عون نقوی
No comments:
Post a Comment