Thursday, 8 September 2022

ہر ضدی شخص کے حصہ میں رمز آشنائی نہیں آتی

 رمز آشناى معنى ہر خيره سر نباشد

طبع سليم فضل است ارث پدر نباشد

ہر خیرہ سر ضدی، ہٹ دھرم شخص کے حصہ میں رمز آشنائی نہیں آتی

طبع سلیم ہونا بھی ایک فضل ہے میراث پدر نہیں

غفلت بہانہ مشتاق خوابت فسانہ مائل

بر ديده سخت ظلم است گر گوش کر نباشد

غفلت بہانے تلاش کرتی ہے اور تیری نیند کہانیاں

آنکھوں پہ بہت ظلم ہے اگر کان بہرے نہ ہوں

افشائی راز الفت بر شرم واگزاريد

نگشايد اين گره را دستى کہ تر نباشد

یہ رازِالفت ہے افشا ہو کے رہتا ہے شرم و حیا سے

اس گرہ کو ہاتھوں سے نہیں کھول سکتے جب تک کہ اس کو تر نہ کرو

بر آسمان رسيديم راز درون نديديم

اين حلقہ شبهہ دارد بيرون در نباشد

ہم نے آسمان تک رسائی پا لی مگر اپنے درون کے راز نہ پا سکے

انسان نے اپنے اندر جھانک کے نہ دیکھا یہ مشبہ حلقہ باہر سے نہیں کھلتا

خلق و ہزار سودا ما و جنون و دشتى

کانجا ز بى کسى ہا خاکى بسر نباشد

مخلوق کے پاس ہزار کام ہیں ایک ہم ہیں مجنون اور دشت و صحرا

کیسی ہے کسی کہ خاک پہ بھی گزارا نہیں

چين کدورتى ہست بر جبهہ ى نگين ہا

تحصيل نامدارى بى دردسر نباشد

یہ زر نگار جبہ اور ناموری کی تمنا ایک طرح سے سر درد کے علاوہ کچھ بھی نہیں

نام کمانا بھی بہت کسی مشقت کے بغیرنہیں

امروز قدر ہر کس، مقدار مال و جاه است

آدم نمی توان گفت آں را کہ خر نباشد

اس دور میں ہر کسی کی قدر اس کے مال و زر سے ہی ہے

انسان کسی کو کہہ نہیں سکتا کہ کوئی گدھا ہو گا

در ياد دامن او مائيم و دل تپيدن

مشت غبار ما را شغل دگر نباشد

اس کے دامان کی یاد ہے میں ہوں اور دل کی تڑپ ہے

میں تو ایک مشتِ خاک ہوں میرا اور کوئی شغل نہیں ہے

نقد حيات تا کى در کيسہ ى توہّم

آہى کہ ما نداريم گو در جگر نباشد

کب تک یہ ہستی کی نقدی توہّم کی پوٹلی میں رہے گی

کون سی آہ و فریاد ہے جو ہمارے جگر میں نہیں

آن بہ کہ برق غيرت بنياد ما بسوزد

آئينہ ايم و ما را تاب نظر نباشد

برقِ تجلی نے ہمیں راکھ کر دیا، جلا ڈالا

ہم مانند آئینہ ہمیں تابِ نظارہ بھی نہیں

پيداست از ندامت عذر ضعيفى ما

شبنم چہ وا نمايد گر چشم تر نباشد

ہماری ندامت ہی ہماری کم ہمتی کا اظہار ہے

اگر آنکھ نم نہ ہو تو یہ قطرۂ ندامت یعنی آنسو کیسے ظاہر ہوں

گردانده گير (بيدل) اوراق نسخہ ى وهم

فرصت بہار رنگست رنگ ايں قدر نباشد

خیال کی کتاب کے اوراق پلٹ کر دیکھو

بہار کی فراغت ہیں اس کی رنگینی ہے وگرنہ اس قدر بھی رنگین نہیں


کلام مرزا عبدالقادر بیدل

اردو ترجمہ طاہرہ الطاف

No comments:

Post a Comment