عارفانہ کلام نعتیہ کلام
احمدؐ میں یہ جو حمد ہے جزدانِ نعت ہے
مدحت نبیﷺ کی اصل میں قرآنِ نعت ہے
پوشیدہ با کے نقطے میں قرآنِ نعت ہے
الحمد میں جو حمد ہے اعلانِ نعت ہے
عشقِ نبیﷺ میں دل تو سلیمانِ نعت ہے
لیکن میرا دماغ بھی سلمانِ نعت ہے
جو احترامِ حضرتِ عمرانِؑ نعت ہے
مجھ کلمہ گو کے واسطے ایمانِ نعت ہے
کر کے عمل حسینؑ کی سیرت پہ دیکھ لیں
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”
ممکن ہے راز ہو یہ الف لام میم کا
ہر ایک حرف حاملِ دیوانِ نعت ہے
یہ جو زباں پہ مدحتِ آلِؑ رسولؐ ہے
مدحت نہیں یہ اصل میں سامانِ نعت ہے
محشر کی دھوپ ان کو جلائے گی کیا بھلا
جن عاشقوں پہ سایۂ دامانِ نعت ہے
ممکن ہے کہ جناں میں وہ میثمؑ کے ساتھ ہو
جس شخص کی زبان کو عرفانِ نعت ہے
گھر سے چلوں مدینے کو پڑھتے ہوئے درود
کافی مجھے سفر میں یہ سامانِ نعت ہے
رگ رگ میں جو اسد ہے رواں عشقِ مصطفیٰؐ
میرا لہو نہیں ہے یہ دورانِ نعت ہے
علی اسد
No comments:
Post a Comment