Monday, 3 April 2023

گلوں میں رنگ ستاروں میں نور بھرتے ہوئے

 گلوں میں رنگ ستاروں میں نور بھرتے ہوئے

میں چل پڑی ہوں خزاؤں کو زیر کرتے ہوئے

تھکی تھکی ہوئی آنکھوں بجھے چراغوں سے

گزر رہی ہے مری شب خطاب کرتے ہوئے

وہ شخص پھول نہیں خوشبوؤں کی صورت ہے

اسے سمیٹ لوں کیسے میں خود بکھرتے ہوئے

بس اس گلی کے نظاروں کی خیر ہو یا رب

گزر رہا ہے زمانہ جہاں سے ڈرتے ہوئے

میں اپنی جھوٹی ہنسی سے فریب کھاتی تھی

تمہارے ہجر کے لمحوں میں رنگ بھرتے ہوئے

میں تیرے شعر پہ ایمان کس طرح لاؤں؟

کہ تیرے لفظ لگے ہیں کسی کے برتے ہوئے


ایمان قیصرانی

No comments:

Post a Comment