Saturday, 14 January 2017

کہنے کو تو کیا کچھ تیرے جلووں میں نہیں ہے

کہنے کو تو کیا کچھ تیرے جلووں میں نہیں ہے

بے درد بتا میری تمنا بھی کہیں ہے

اتنا تو سمجھتا ہوں کہ سجدہ میں جبیں ہے

ایسا تو نہیں منزل مقصود یہیں ہے

سجدے کے لیے کیوں میری بیتاب جبیں ہے

اب تیرے تصور میں نہ دنیا ہے نہ دیں ہے

اک جلوہ رنگیں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

نادیدہ نگاہوں کو یہ دنیا ہے وہ دیں ہے

ہر ذرے میں ہونے کا ترے مجھ کو یقیں ہے

دنیا سے تو نہاں ہے مگر مجھ سے نہیں ہے

تُو ڈھونڈ رہا ہے حرم و دیر میں جس کو

زاہد مِرے ٹُوٹے ہوئے دل میں وہ مکیں ہے

اللہ رے اس دیدہ حیراں کی مصیبت

جس نے تجھے دیکھا بھی ہے دیکھا بھی نہیں ہے

اتنی بھی نہ مایوس شب غم ہو کسی کی

مرنا بھی میسر نہیں جس کا کہ یقیں ہے

کچھ منزلیں یہ بھی رہِ عرفاں میں تھیں شاید

اب دل کو خیال حرم و دیر نہیں ہے

ہاں بندگیٔ شوق کے جوہر نہ مٹیں گے

ہر ذرے میں پنہاں مِری تصویر جبیں ہے

یہ ربط کہ بے تیرے نہیں مجھ کو ذرا چین

یہ ضبط کہ گویا مجھے الفت بھی نہیں ہے

یہ بعد کہ ہستی تِری اب تک نہ میں سمجھا

یہ قرب کہ حائل رگ گردن بھی نہیں ہے

فطرت کبھی وعدہ شکنی کی بھی ہے بدلی

تم پوچھتے ہو مجھ سے تو کہتا ہوں یقیں ہے

وہ پوچھتے ہیں مجھ سے میں کیا ان کو بتاؤں

گویا مِری امید کی صورت ہی نہیں ہے

سجدوں کی مِرے شرم ہے اللہ تِرے ہاتھ

ہر ذرہ ذرہ اس کا طلبگار نہیں ہے

وارستگی دل کا ہو کیوں کر مجھے دعویٰ

کس طرح کہوں تیری تمنا بھی نہیں ہے

پیوست ہے رگ رگ میں مِری تیری تمنا

تو ہاتھ جہاں رکھ دے تِرا درد وہیں ہے

معلوم نہیں اب بھی حجابات ہیں کتنے

ہادی تجھے کیا جلوۂ جاناں کو یقیں ہے


ہادی مچھلی شہری

سید محمد ہادی

No comments:

Post a Comment