Monday, 16 January 2017

حسن کہتا ہے اک نظر دیکھو

حسن کہتا ہے اک نظر دیکھو
دیکھو اور آنکھ کھول کر دیکھو
سن کے طاؤس رنگ کی جھنکار
ابر اٹھا ہے جھوم کر دیکھو
پھول کو پھول کا نشاں جانو
چاند کو چاند سے ادھر دیکھو
جلوۂ رنگ بھی ہے اک آواز
شاخ سے پھول توڑ کردیکھو
جی جلاتی ہے اوس غربت میں
پاؤں جلتے ہیں گھاس پر دیکھو
جھوٹی امید کا فریب نہ کھاؤ
رات کالی ہے کس قدر دیکھو
نیند آتی نہیں تو صبح تلک
گردِ مہتاب کا سفر دیکھو
اک کرن جھانک کر یہ کہتی ہے
سونے والو ذرا ادھر دیکھو
خمِ ہر لفظ ہے گلِ معنی
اہلِ تحریر کا ہنر دیکھو

ناصر کاظمی

No comments:

Post a Comment