Wednesday, 16 December 2020

قسمیں وعدے رہ جاتے ہیں

 قسمیں وعدے رہ جاتے ہیں

انساں آدھے رہ جاتے ہیں

خط سے خوشبو اڑ جاتی ہے

کاغذ سادے رہ جاتے ہیں

رب کی مرضی ہی چلتی ہے

اور، ارادے رہ جاتے ہیں

لب پر انگلی رکھ لیتی ہو

ہم چپ سادھے رہ جاتے ہیں

اس کے رعبِ حسن کے آگے

مارے باندھے رہ جاتے ہیں


وجیہہ ثانی

No comments:

Post a Comment