Tuesday, 11 May 2021

خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہے

 خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہے

ہم نے اب اس کا سایہ دیوار کر لیا ہے

جاتی تھی میرے دل سے جو تیرے آستاں تک

دنیا نے اس گلی میں بازار کر لیا ہے

دے داد آ کے باہر شہ رگ سے خوں ہمارا

اس نے جو اپنا چہرہ گلنار کر لیا ہے

بس چشم خوں فشاں کو ملتے نہیں ہیں آنسو

ورنہ تِرا مرکب تیار کر لیا ہے

ہے وجہ کج کلاہی طوق گلو ہمارا

زنجیر پا کو اپنی تلوار کر لیا ہے

محسوس کر رہا ہوں خاروں میں قید خوشبو

آنکھوں کو تیری جانب اک بار کر لیا ہے

اس بار وہ بھی ہم سے انکار کر نہ پایا

ہم نے بھی اب کی اس سے اقرار کر لیا ہے


امیر امام

No comments:

Post a Comment