دل میں جب کبھی تیری یاد سو گئی ہو گی
چاند بجھ گیا ہوگا،۔ رات رو پڑی ہو گی
کیا خبر کہ ایسے میں، تم نے کیا کِیا ہو گا
مجھ سے ترکِ الفت کی بات جب چلی ہو گی
بے قرار دنیا میں تیرے لوٹ آنے تک
کون ایسے قصوں کا اختتام چاہے گا
جن میں تیری زلفوں کی بات آ گئی ہو گی
آپ کیوں پریشاں ہیں، آپ تو نہیں روئے
آپ کی نگاہوں میں میری بے بسی ہو گی
یوسف تقی
No comments:
Post a Comment