Saturday, 5 November 2016

یہ زندگی سوال تھی جواب مانگنے لگے

یہ زندگی سوال تھی، جواب مانگنے لگے
فرشتے آ کے خواب میں حساب مانگنے لگے
اِدھر کِیا کرم کسی پہ، اُدھر جتا دیا 
نماز پڑھ کے آئے اور شراب مانگنے لگے
تجارتوں کا رنگ بھی عبادتوں میں آ گیا 
سلام پھیرتے ہی ہم ثواب مانگنے لگے
میں جگنوؤں کو منہ لگا کے الجھنوں میں پڑ گیا
یہ بے وقوف مجھ سے آفتاب مانگنے لگے
سخنوروں نے خود بنا دیا سخن کو اک مذاق 
ذرا سی داد کیا ملی، خطاب مانگنے لگے

راحت اندوری

2 comments:

  1. اگر کبھی فرصت و فراغت کے چند لمحات میسر آئیں تو ازراہِ کرم ہماری ویب سائٹ https://poet.sufilab.pk پر بھی تشریف آوری فرمائیے۔

    آپ کی گراں قدر آراء، مخلصانہ تجاویز اور ناقدانہ تبصرے ہمارے لیے سرمایۂ افتخار ہوں گے۔ امید ہے کہ اپنی عنایتِ خاص سے نوازتے ہوئے اس حقیر کاوش کے متعلق اپنے تاثرات سے بھی مستفید فرمائیں گے۔

    منجانب: صوفی بھائی

    ReplyDelete
  2. صوفی بھائی! بلاگ بنانے کی مبارک قبول ہو، بلاگ کا نام صوفیانہ شاعری کے لیے زیادہ موزوں لگتا ہے۔ لیکن آپ کو پسند ہے تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ بلاگ کا ٹائٹل ذرا بڑی فونٹ میں بنائیں تاکہ قاری کو وہ سب سے پہلے نظر آئے۔

    ReplyDelete