Monday, 16 January 2017

جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے

جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے
بہتر یہ ہے آپ مجھے بھول جائیے
ہر آن اک جدائی ہے خود اپنے آپ سے
ہر آن کا ہے زخم جو ہر آن کھائیے
تھی مشورت کہ ہم کو بسانا ہے گھر نیا
دل نے کہا کہ میرے در و بام ڈھائیے
تھوکا ہے میں نے خون ہمیشہ مذاق میں
میرا مذاق آپ ہمیشہ اڑائیے
ہرگز مِرے حضور کبھی آئیے نہ آپ
اور آئیے اگر، تو خدا بن کے آئیے
اب کوئی بھی نہیں ہے کوئ دل محلے میں
کس کس گلی میں جائیے اور غل مچائیے
اک طَورِ دہ صدی تھا جو بے طَور ہو گیا
اب جنتری بجائیے، تاریخ گائیے
اک لال قلعہ تھا جو میاں زرد پڑ گیا
اب رنگریز کون سے، کس جا سے لائیے
شاعر ہیں آپ یعنی کہ سستے لطیفہ گو
رشتوں کو دل سے روئیے، سب کو ہنسائیے
جو حالتوں کا دور تھا، وہ تو گزر گیا
دل کو جلا چکے ہیں، سو اب گھر جلائیے
اب کیا فریب دیجئیے اور کس کو دیجئیے
اب کیا فریب کھائیے اور کس سے کھائیے
ہے یاد پر مدار مِرے کاروبار کا
ہے عرض آپ مجھ کو بہت یاد آئیے
بس فائلوں کا بوجھ اٹھایا کریں جناب
مصرع یہ جونؔ کا ہے اسے مت اٹھائیے

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment