کس طرف سے آ رہی ہیں درد کی پُروائیاں
آگ سی دینے لگی ہیں بھیگتی انگنائیاں
یہ شباب و حُسن تیرا، اور یہ ناز و ادا
ٹُوٹتی ہیں دونوں ہاتھوں سے تِری انگڑائیاں
میں کہاں جا کر چھُپوں اے گردشِ دوراں بتا
ڈُھونڈ لیتی ہیں مجھے ہر جا مِری رُسوائیاں
اک شِکستہ ساز ہے اور اک صدائے دردِ دل
ہم ہیں تم ہو بے کسی ہے غم ہے اور تنہائیاں
ہم نے کیا سوچا تھا اور سیماب یہ کیا ہو گیا
بجتے بجتے رُک گئیں کیوں سب کی سب شہنائیاں
سیماب سلطانپوری
دھرم ویر دھیر
No comments:
Post a Comment