ذات میری بھی معتبر کر دے
میری شاموں کی اب سحر کر دے
تیرے دکھ میں ہوں مبتلا جاناں
نہیں ملنا تو دربدر کر دے
اپنا رستہ ہی بھول بیٹھا ہوں
اپنی اب تو مجھے خبر کر دے
میری قسمت بھی ضوفشاں ہو گی
اس کو میرا جو ہمسفر کر دے
مجھ گنہ گار پر کبھی یا رب
اپنی رحمت کی اک نظر کر دے
بھیج ایسی دعا تُو اے شائق
دردِ دل کو جو مختصر کر دے
فاروق شائق
No comments:
Post a Comment