Friday, 10 December 2021

ذات میری بھی معتبر کر دے

ذات میری بھی معتبر کر دے

میری شاموں کی اب سحر کر دے

تیرے دکھ میں ہوں مبتلا جاناں

نہیں ملنا تو دربدر کر دے

اپنا رستہ ہی بھول بیٹھا ہوں

اپنی اب تو مجھے خبر کر دے

میری قسمت بھی ضوفشاں ہو گی

اس کو میرا جو ہمسفر کر دے

مجھ گنہ گار پر کبھی یا رب

اپنی رحمت کی اک نظر کر دے

بھیج ایسی دعا تُو اے شائق

دردِ دل کو جو مختصر کر دے


فاروق شائق

No comments:

Post a Comment