Sunday, 6 November 2022

دریاؤں سے باغی ہو کر میرے گھر تک آ پہنچا ہے

 دریاؤں سے باغی ہو کر میرے گھر تک آ پہنچا ہے

حاکم تیری فوج کہاں ہے پانی سر تک آ پہنچا ہے

تم موجودہ صف بندی میں ایک ہراول دستہ لاؤ

ہار مقدر بن سکتی ہے ڈر لشکر تک آ پہنچا ہے

کون اداسی پہنے ان کی کون انہیں نزدیک سے دیکھے

آنکھیں اندر دھنس جانے سے دل باہر تک آ پہنچا ہے

سوچ رہا ہوں کون سے دکھ کے دروازے میں دفناؤں میں

خون کا آخری قطرہ ہے جو چشمِ تر تک آ پہنچا ہے

کمرے میں کہرام مچا ہے ارمانوں کی سب لاشوں پر

لگتا ہے اب ہجر تمہارا پھر بستر تک آ پہنچا ہے

دھیرے دھیرے سبز صنوبر ساجد زردی اوڑھ رہے ہیں

چلتے چلتے کچھ شاخوں کا دکھ منظر تک آ پہنچا ہے


لطیف ساجد

No comments:

Post a Comment