Monday, 13 July 2020

روٹھ گیا دل سب سے

روٹھ گیا دل سب سے
آپ گئے ہیں جب سے
پہروں سونے والے
جاگ رہے ہیں کب سے
تاریکی،۔۔ سناٹا
توبہ ایسی شب سے
کون" وفا" کا پیکر؟
ہم واقف ہیں سب سے
غم ہی غم دیکھا ہے
آنکھ کھلی ہے جب سے
ہم مجرم ہیں،۔ لیکن
بات تو کیجے ڈھب سے
کیا لینا،۔۔ کیا دینا
ہنس کر ملیے سب سے
بات کرو کچھ باقی
چپ بیٹھے ہو کب سے

باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment