Monday, 13 July 2020

اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل

اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
ہر سائے کے ساتھ نہ ڈھل
لفظوں کے پھولوں پہ نہ جا
دیکھ "سروں" پر چلتے ہل
دنیا برف کا "تودا" ہے
جتنا "جل" سکتا ہے جل
غم کی نہیں "آواز" کوئی
کاغذ "کالے" کرتا چل
بن کے لکیریں ابھرے ہیں
ماتھے پر راہوں کے بل
میں نے تیرا ساتھ دیا
میرے منہ پر کالک مل
آس کے پھول کھلے باقی
دل سے گزرا پھر بادل

باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment