Tuesday, 2 November 2021

زمانے والوں کے چہروں پہ کتنے ڈر نکلے

 زمانے والوں کے چہروں پہ کتنے ڈر نکلے

فلک کی چاہ میں جب بھی زمیں کے پر نکلے

بھٹکنا چاہوں بھی تو دنیا مختصر نکلے

جدھر بڑھاؤں قدم تیری رہگزر نکلے

یشودھرا کی طرح نیند میں چھلی گئی تو

میں چاہتی ہوں مِرے خواب سے یہ ڈر نکلے

کبھی خیال میں سوچو وہ رات کا چہرہ

کہ جس گھڑی وہ دعا کرتی ہے سحر نکلے

کہ جس پہ چلتے ہوئے خود سے مل سکوں میں صبا

کہیں سے کاش کوئی ایسی رہگزر نکلے

پڑاؤ ہوتی ہوئی منزلیں نہ تھیں منظور

سو ہار تھک کے صبا ہم بھی اپنے گھر نکلے


رشمی صبا

No comments:

Post a Comment