جانے گھر سے کوئی گیا ہے گھر سونا سونا لگتا ہے
گھر کے بچے بچے کا چہرہ اترا اترا لگتا ہے
ہم باہر سے گھر کیا لوٹے ہیں سب کو پرائے لگتے ہیں
اب جو بھی ہم سے ملتا ہے کچھ روٹھا روٹھا لگتا ہے
یہ کس کو خبر تھی اس کو بھی دیکھ دینے کے ڈھب آتے ہیں
حسن اگر سچا ہو تو اس کو زیبائش کی حاجت کیا
سیدھے سادے جوڑے میں بھی وہ کتنا پیارا لگتا ہے
غفلت کی نیندیں سونے والے اس لذت کو کیا سمجھیں
جب صبح اذانیں ہوتی ہیں تو کتنا اچھا لگتا ہے
عہدہ ان کو جب سے ملا ہے وہ جانیں کیسے لگتے ہیں
لہجہ ہی نہیں اب چہرہ بھی کچھ بدلا بدلا لگتا ہے
اقبالؔ سے ہم کل رات ملے تھے چپکا چپکا بیٹھا تھا
کیا جانے اس کو کیا دکھ ہے جو کھویا کھویا لگتا ہے
اقبال عظیم
No comments:
Post a Comment