Friday, 8 January 2016

جانے گھر سے کوئی گیا ہے گھر سونا سونا لگتا ہے

جانے گھر سے کوئی گیا ہے گھر سونا سونا لگتا ہے 
گھر کے بچے بچے کا چہرہ اترا اترا لگتا ہے 
ہم باہر سے گھر کیا لوٹے ہیں سب کو پرائے لگتے ہیں 
اب جو بھی ہم سے ملتا ہے کچھ روٹھا روٹھا لگتا ہے 
یہ کس کو خبر تھی اس کو بھی دیکھ دینے کے ڈھب آتے ہیں 
چہرے مہرے سے تو وہ ہم کو بھولا بھالا لگتا ہے 
حسن اگر سچا ہو تو اس کو زیبائش کی حاجت کیا 
سیدھے سادے جوڑے میں بھی وہ کتنا پیارا لگتا ہے 
غفلت کی نیندیں سونے والے اس لذت کو کیا سمجھیں 
جب صبح اذانیں ہوتی ہیں تو کتنا اچھا لگتا ہے 
عہدہ ان کو جب سے ملا ہے وہ جانیں کیسے لگتے ہیں 
لہجہ ہی نہیں اب چہرہ بھی کچھ بدلا بدلا لگتا ہے 
اقبالؔ سے ہم کل رات ملے تھے چپکا چپکا بیٹھا تھا 
کیا جانے اس کو کیا دکھ ہے جو کھویا کھویا لگتا ہے

اقبال عظیم

No comments:

Post a Comment