Friday, 8 January 2016

بارہا ان سے نہ ملنے کی قسم کھاتا ہوں میں

بارہا ان سے نہ ملنے کی قسم کھاتا ہوں میں 
اور پھر یہ بات قصداً بھول بھی جاتا ہوں میں
ڈوبتے دیکھے ہیں ان آنکھوں سے اتنے آفتاب
روشنی کے نام سے بھی اب لرز جاتا ہوں میں
اتنی افسردہ دلی اللہ دشمن کو نہ دے
لوگ ہنستے ہیں تو جی ہی جی میں شرماتا ہوں میں
بے رخی کو ان کی سچ مچ بے رخی سمجھا کیا
آج اپنی اس غلط فہمی پہ پچھتاتا ہوں میں ہوں میں
چاہتا یہ ہوں کہ دنیا مجھ کو تنہا چھوڑ دے
جانے کیوں اب غمگساری سے بھی گھبراتا ہوں میں

اقبال عظیم

No comments:

Post a Comment