ہے یہ تکیہ تیری عطاؤں پر
وہی اصرار ہے خطاؤں پر
رہروو با خبر رہو کہ گمان
رہزنی کا ہے رہنماؤں پر
اس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر و بال
شہسواروں پہ بند ہے جو راہ
وقف ہے یاں برہنہ پاؤں پر
نہیں منعم کو اس کی بوند نصیب
مینہ برستا ہے جو گداؤں پر
نہیں محدود بخششیں تیری
زاہدوں پر نہ پارساؤں پر
حق سے درخواست عفو کی حالی
کیجیے کس منہ سے ان خطاؤں پر
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment