Saturday, 18 December 2021

درد تنہائی تڑپ آہ و بکا دے کر گیا

 درد تنہائی، تڑپ آہ و بکا دے کر گیا

زندگی بھر کے لیے اک مسئلہ دے کر گیا

اشتہارِ خفتگی لٹکا ہوا ہے بام پر

کیا امیرِ شہر تھا کیا حوصلہ دے کر گیا

اور جب آیا تو دستک کے بنا داخل ہوا

روح اور خاکی بدن کو فاصلہ دے کر گیا

ہم انا کی آڑ میں غیرت کے سوداگر ہوئے

کون ایسی بد مزاجی برملا دے کر گیا

ہم روابط کے لیے تو اس قدر راضی نہ تھے

دل بڑا بے صبر نکلا، حادثہ دے کر گیا

ہائے رے واحد تِری کمسِن مزاجی دیکھ لی

کس طرح اہلِ جفا کو تُو وفا دے کر گیا

واحد کشمیری

No comments:

Post a Comment