Friday, 22 April 2022

دیوانہ وار چومنے لگتا ہوں جا کے ہاتھ

  دیوانہ وار چومنے لگتا ہوں جا کے ہاتھ

بجلی سی دوڑ جاتی ہے اس سے ملا کے ہاتھ

اک اور ہی جہان دکھائی دیا ہمیں

آنکھوں پہ رکھے اس نے جو چپکے سے آ کے ہاتھ

لائی ہے خوشبو اس کی، اڑا کر ہوائے صبح

پیغامِ شوق بھیجا ہے اس نے صبا کے ہاتھ

دینے لگا رقیب کو جب بھی جواب میں

خاموش کر دیا مجھے اس نے دبا کے ہاتھ

اس حسنِ بے نیاز کا جب تذکرہ چلا

رکھتے چلے گئے سبھی دل پر اٹھا کے ہاتھ

کیا کیا عجب معانی نکالے گئے وہاں

دیوانِ دل لگا کسی نکتہ سرا کے ہاتھ

جب سے کیا ہے قصد تصور نے کوچ کا

اٹھے ہوئے ہیں تب سے مِرے دلربا کے ہاتھ


تصور سمیع

No comments:

Post a Comment