ہزار رنج سر آنکھوں پہ بات ہی کیا ہے
تِری خوشی کے تصدق، مِری خوشی کیا ہے
خدا بچائے تِری مست مست آنکھوں سے
فرشتہ ہو تو بہک جائے، آدمی کیا ہے
گزار دوں تِرے غم میں، جو عمرِ خضرؑ ملے
تِرے نثار، یہ دو دن کی زندگی کیا ہے
بھری بہار کہاں، اور قفس کہاں صیاد
سمجھ میں آج یہ آیا، کہ بے بسی کیا ہے
وہ اور ہیں جو طلبگارِ خُلد ہیں واعظ
نگاہِ یار سلامت، مجھے کمی کیا ہے
کھڑے ہوۓ ہیں وہ کب سے نظر جھکائے ہوئے
خمارؔ! ہوش میں آؤ، یہ بے خُودی کیا ہے
تِری خوشی کے تصدق، مِری خوشی کیا ہے
خدا بچائے تِری مست مست آنکھوں سے
فرشتہ ہو تو بہک جائے، آدمی کیا ہے
گزار دوں تِرے غم میں، جو عمرِ خضرؑ ملے
تِرے نثار، یہ دو دن کی زندگی کیا ہے
بھری بہار کہاں، اور قفس کہاں صیاد
سمجھ میں آج یہ آیا، کہ بے بسی کیا ہے
وہ اور ہیں جو طلبگارِ خُلد ہیں واعظ
نگاہِ یار سلامت، مجھے کمی کیا ہے
کھڑے ہوۓ ہیں وہ کب سے نظر جھکائے ہوئے
خمارؔ! ہوش میں آؤ، یہ بے خُودی کیا ہے
خمار بارہ بنکوی
No comments:
Post a Comment