Wednesday, 17 November 2021

تمہیں بتاؤ تمہارا ہے انتظار کسے

 تمہیں بتاؤ تمہارا ہے انتظار کسے

تمہاری یاد ستاتی ہے بار بار کسے

یہ کس کی آنکھوں سے برسے گا ابر صبح الم

شبِ نشاط بنائے گی غم گسار کسے

لہو کا لمس تو خنجر کے لب نے چوس لیا

دکھائے رنگِ تبسم یہ اشک بار کسے

کھلیں گی کس کی تمنائیں صحن گلشن میں

نصیب آئے گا وہ موسم بہار کسے

یہ دوستوں کی نوازش ہے اے اسد ورنہ

خطوط آئے ہیں اس طرح بے شمار کسے


اسد رضوی

No comments:

Post a Comment