Monday, 12 September 2022

کیسے سمجھے گا صدف کا وہ گہر سے رشتہ

 کیسے سمجھے گا صدف کا وہ گہر سے رشتہ

جو سمجھ پائے نہ آنکھوں کا نظر سے رشتہ

معتبر سر ہی بنا لو تو بہت اچھا ہے

کم ہی رہ پاتا ہے دستار کا سر سے رشتہ

ہے غریبوں کا امیروں سے تعلق اتنا

جتنا ہوتا ہے چراغوں کا سحر سے رشتہ

بے اثر جب ہیں زبانیں تو کیا کیا جائے

ورنہ رکھتی ہیں دعائیں بھی اثر سے رشتہ

ہم نے رسوائی کی اس وقت سے چادر اوڑھی

جس گھڑی توڑ دیا تھا تِرے در سے رشتہ

دل کا رشتہ بھی اگر سوچو تو کیا رشتہ ہے

نِبھ رہا ہے اسی رشتے کے اثر سے رشتہ

جستجو اس کی خدا جانے ہے کس منزل تک

ختم ہوتا نہیں اختر! کا سفر سے رشتہ


اختر ہاشمی

No comments:

Post a Comment