Friday, 16 October 2020

اب کسی بات پہ غصہ نہیں آتا اس کو

 پنجرے کا پنچھی


اب کسی بات پہ غصہ نہیں آتا اس کو

ہر کسی بات پہ سر ہنس کے جھکا دیتی ہے

بیچ ناول میں بھی بجلی کو بجھا دیتی ہے

اب بڑے شوق سے کرتی ہے صفائی گھر کی

چھوٹی بہنوں سے خفا ہو کے جھگڑتی بھی نہیں

پیٹھ پر چڑھتا ہے پپو تو بگڑتی بھی نہیں

اب نہیں ہوتا کبھی تیز نمک سالن میں

روٹیاں چاند کی ماند اتر آتی ہیں

چمنیاں وقت سے پہلے ہی سنور جاتی ہیں

تنگ پنجرے کی سلاخوں سے الجھتا پنچھی

صرف پھولوں کی مہک سے بھی بہل جاتا ہے

یہ بھی کیا کم ہے کسی اجنبی سگرٹ کا دھواں

بند دروازوں کی جھریوں سے نکل آتا ہے


ندا فاضلی

No comments:

Post a Comment