سورج کے ساتھ، چاند ستارے بھی لے گیا
وہ شخص نین نقش ہمارے بھی لے گیا
میں اس پہ رو رہا تھا کہ آنکھیں چلیں گئیں
پھر یہ پتا چلا وہ نظارے بھی لے گیا
کچھ فائدوں کے جانے کا ہی دکھ نہیں ہمیں
جاتے ہوئے وہ ساتھ خسارے بھی لے گیا
تم مجھ پہ ہنس رہے ہو مگر تب کرو گے کیا
ایسے جو کوئی خواب تمہارے بھی لے گیا
پہلے تو کشتیوں پہ کِیا اس نے ہاتھ صاف
دریا پھر اس کے بعد کنارے بھی لے گیا
حسن ظہیر راجا
No comments:
Post a Comment