بیتے لمحوں کے آنگن میں بے چینی دن رات ملی
پیار بنا جب دشمن دل کا، کیا اچھی سوغات ملی
سوچ کی گہری تاریکی میں روشن آنکھیں ڈوب گئیں
تب بھیگی پلکوں سے مجھ کو شبنم کی برسات ملی
کھونا کیا اور پانا کیا ہے، مُٹھی بھر کر لانا کیا
زیست کی ساری دولت کھو کر مجھ کو میری ذات ملی
کیسی کیسی چال چلی ہے الفت کے دو راہے پر
ہار کے جیتی بازی اس نے، اندھی مجھ کو مات ملی
آئینے کے ہر ٹکڑے میں ٹوٹا پھوٹا چہرہ تھا
خود پر جس دم غور کیا تو کرچوں کی بارات ملی
شعر انوکھے میں نے کہے تھے زارا اس کی چاہت میں
زہر میں ڈوبی لیکن مجھ کو اس کی ہر اک بات ملی
زارا فراز
No comments:
Post a Comment