Wednesday, 3 November 2021

اتنی حیرانگی میسر ہو

اتنی حیرانگی میسر ہو 

خود سے بیگانگی میسر ہو 

ہوش اندر سے کھا رہا ہے مجھے

کچھ تو دیوانگی میسر ہو

قصۂ غم جسے سنا پاؤں 

کوئی تو آدمی میسر ہو

ایسا ممکن نہیں مجھے مولا

دن کو بھی چاندنی میسر ہو

مجھ کو لگتا نہیں ترے در پر

اب کبھی حاضری میسر ہو

تم پہ کھل جائے گی تری ہستی 

ہاں اگر خامشی میسر ہو

درد  کے راز کھول دیتی ہے

جس کو بھی بانسری میسر ہو

ایک بھی آدمی نہیں دیکھا

جس کو کچھ زندگی میسر ہو


باطن رجانوی

No comments:

Post a Comment