Tuesday, 23 November 2021

یہ چلتی پھرتی سی لاشیں شمار کرنے کو

 یہ چلتی پھرتی سی لاشیں شمار کرنے کو

بہت ہے کام سر رہگزار کرنے کو

گزر رہے ہیں بہ عجلت بہار کے ایام

پڑا ہے رخت بدن تار تار کرنے کو

گلے کی سمت مِرے اپنے ہاتھ بڑھتے ہیں

رہا ہی کیا ہے بھلا اعتبار کرنے کو

بدن کو چاٹ لیا ہے سیاہ کائی نے

ابھی تو کتنے سمندر ہیں پار کرنے کو

ابھی سے چاند ستاروں کی آنکھیں پتھرائی

پڑی ہے رات ابھی انتظار کرنے کو

سمجھ میں آ نہ سکی یہ ادا گلابوں کی

چمن میں آتے ہیں سینہ فگار کرنے کو


حامدی کاشمیری

No comments:

Post a Comment