Monday, 22 November 2021

کتنے منظر دیکھ سکو گے کتنے منظر آئیں گے

 کتنے منظر دیکھ سکو گے کتنے منظر آئیں گے

ایک سمندر پار کرو گے کئی سمندر آئیں گے

موسم کے تیور کہتے ہیں لاکھ اڑانے بھر لیں ہم

اڑتے اڑتے تھک جائیں گے لوٹ کے پھر گھر آئیں گے

روز ازل سے رُسوائی کا طوق گلے میں ڈالا ہے

جتنے بھی الزام لگیں گے اپنے ہی سر آئیں گے

ان کی اپنی بندش ہو گی، ہوں گے ان کے اپنے تیور

میری غزلوں میں جتنے الفاظ کے پیکر آئیں گے

دل کے دریچے کھول کے رکھو اور ہمیں محسوس کرو

ہم تو اندر، اور بھی اندر، اور بھی اندر آئیں گے


شمیم قاسمی

No comments:

Post a Comment