Saturday, 20 November 2021

ایسی برسات میں آئے گا کہاں سے ساجن

 ایسی برسات میں آئے گا کہاں سے ساجن

چڑھتے دریا میں سرِ شام بہا دے درپن

دشت و صحرا میں بھٹکتے ہوئے گزرا بچپن

میرے ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں تھا دھن ون

گھر کی دیوار پہ بیٹھے ہیں پرندے چپ چاپ

کتنا سونا ہے تیری یاد میں میرا آنگن

کبھی تنہائی میں آ کر جو ملے گا مجھ سے

میری سانسوں میں سما جائے گی دھڑکن

ہم کو محسوس ہوا قید کے عالم میں یہی

رات کے پچھلے پہر جیسے بجا ہو کنگن

میں نے دروازہ ملاقات کا رکھا  تھا کھلا

آہٹیں دے نہ سکا پیار کا کوئی ساون

شہر کی بھیڑ میں گم ہو گیا رفتہ رفتہ

چھوڑ کر مجھ کو کڑی دھوپ میں میرا دشمن

تیری نا سمجھی نے لُوٹا ہے تجھے کیا معلوم

تاش کے کھیل میں پتے ہیں برابر باون

تیرے جذبات میں کچھ ایسی کشش ہے مسعود

تُو ہے جذبات کی دنیا کا یقیناً نیوٹن


مسعود جعفری 

No comments:

Post a Comment