Saturday, 20 November 2021

بس اسی کا سفر شب میں طلبگار ہے کیا

 بس اسی کا سفرِ شب میں طلبگار ہے کیا

تُو ہی اے ماہ مِرا ہمدم و غمخوار ہے کیا

تیشہ در دست امنڈ آئی ہے آبادی تمام

سب یہی کہتے ہیں دیکھیں پسِ دیوار ہے کیا

ہاں اسی لمحے میں ہوتا ہے ستاروں کا نزول

شہرِ خوابیدہ میں کوئی دلِ بیدار ہے کیا

جسم تو جسم ہے مجروح ہوئی ہے جاں بھی

اپنوں کے ہوتے ہوئے شکوۂ اغیار ہے کیا

تھرتھری پتوں پہ ہے درد بجاں ہیں کلیاں

تُو بھی اے بادِ سحر درپئے آزار ہے کیا

لب ہلانے کی سکت ہے نہ قدم اٹھتے ہیں

سامنے جو بھی ہے دلدل میں گرفتار ہے کیا


حامدی کاشمیری

No comments:

Post a Comment