Saturday, 20 November 2021

مکاں اندر سے خستہ ہو گیا ہے

 مکاں اندر سے خستہ ہو گیا ہے

اور اس میں ایک رستہ ہو گیا ہے

انہیں منظور کرنا ہی پڑے گا

عریضہ دست بستہ ہو گیا ہے

سیاسی رہنماؤں کی بدولت

ہمارا خون سستا ہو گیا ہے

کمان جسم ہے موجود لیکن

شباب اک تیر جستہ ہو گیا ہے

زبوں ہے اس قدر دنیا کی حالت

ہمارا غم بھی خستہ ہو گیا ہے

شکستہ اور پسپا کرشن موہن

ہمارا فوجی دستہ ہو گیا ہے


کرشن موہن

No comments:

Post a Comment