آج میرا صنم بے وفا ہو گیا
پیار اس سے مِرا اک سزا ہو گیا
بات جب بھی سنائی ہے دلکی اسے
بات سنتے ہی مجھ سے خفا ہو گیا
غم میں کاٹی ہے کچھ اس طرح زندگی
درد میں میرے شامل خدا ہو گیا
رزق اوقات سے اپنی زیادہ مجھے
مجھ کو اس کی رضا سے عطا ہو گیا
وہی شخص سرمایہ ہستی تھا اور
وہی شخص مجھ سے جدا ہو گیا
تمنّا یہ فرزانہ پوری ہوئی
خدا کا یہ دینا جزا ہو گیا
فرزانہ غوری
No comments:
Post a Comment