Saturday, 20 November 2021

آج میرا صنم بے وفا ہو گیا

 ‎آج میرا صنم بے وفا ہو گیا

‎پیار اس سے مِرا اک سزا ہو گیا

‎بات جب بھی سنائی ہے دلکی اسے

‎بات سنتے ہی مجھ سے خفا ہو گیا

‎غم میں کاٹی ہے کچھ اس طرح زندگی

‎درد میں میرے شامل خدا ہو گیا

‎رزق اوقات سے اپنی زیادہ مجھے

‎مجھ کو اس کی رضا سے عطا ہو گیا

‎وہی شخص سرمایہ ہستی تھا اور

‎وہی شخص مجھ سے جدا ہو گیا

‎تمنّا یہ فرزانہ پوری ہوئی

‎خدا کا یہ دینا جزا ہو گیا


فرزانہ غوری

No comments:

Post a Comment