Tuesday, 23 November 2021

اس بستی میں کب اترے گا کاوہ آہن گر

 کاوہ آہن گر


ایک ضحاک کے کاندھوں پر

بیٹھے ہیں دو اجگر

جانے کب سے چاٹ رہے ہیں

ذہنوں کا جوہر

اس بستی میں کب اترے گا

کاوہ آہن گر

باغی ہیں بازار کی زینت

بیچ چکے لشکر

شاعر کے سب شبد بکاؤ

چکلے ہیں دفتر

اس بستی میں مارِ سیاہ ہیں

سارے دانشور

چپ کا ہنر ہے زوروں پر

ہے نامعلوم کا ڈر

اس بستی میں کب اترے گا

کاوہ آہن گر

بِن ہاتھوں کے جسم کروڑوں

شانوں پر ہیں سر

ان میں بھی بس ڈر

تیرا درفش، تیرا پرچم

لہرائے کیونکر

کاوہ آہن گر

قتل ضحاک نے ہونا ہے

مٹ جائیں گے اژدر

وقت کے انگاروں پر رکھی

تیغ ہے وہ خنجر

اس بستی میں پیدا ہو گا

آج نہیں تو کل

کاوہ آہن گر


مشتاق علی شان

No comments:

Post a Comment