Thursday, 18 November 2021

میرے دل میں ہے یاد محمد میرے ہونٹوں پہ ذکر مدینہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میرے دل میں ہے یادِ محمدؐ میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ

تاجدارِ حرمﷺ کے کرم سے آ گیا زندگی کا قرینہ

میں غلامِ غلامانِ احمدﷺ میں سگِ آستانِ محمدﷺ

قابلِ فخر ہے موت میری قابلِ رشک ہے میرا جینا

دل شکستہ ہے میرا تو کیا غم اس میں رہتے ہیں شاہِ دوعالم

جب سے مہماں ہوئے ہیں وہ دل میں، دل مرا بن گیا ہے مدینہ

ہر خطا پر مِری چشم پوشی ہر طلب پر عطاؤں کی بارش

مجھ گناہ گار پر کس قدر ہیں مہرباں تاجدارِ مدینہ

مجھ کو طوفاں کی موجوں کا کیا ڈر یہ گزر جائیں گی رخ بدل کر

ناخدا ہیں مِرے جب محمدﷺ کیسے ڈوبے گا میرا سفینہ

دولتِ عشق سے دل غنی ہے میری قسمت ہے رشکِ سکندر

مدحتِ مصطفٰیﷺ کی بدولت مل گیا ہے مجھے یہ خزینہ


سکندر لکھنوی

No comments:

Post a Comment