Friday, 7 October 2022

وہ جس کی بات میں لہجوں کا کوئی کال نہ تھا

 وہ جس کی بات میں لہجوں کا کوئی کال نہ تھا

وہ شخص، کبھی میرا ہم خیال نہ تھا

میرے گمان میں تنہائی بھر گئی آ کر

وگرنہ اس کا بدلنا مجھے محال نہ تھا

میں اس کا لہجہ بدلنے کا کیا گلہ کرتا

نسب کو بیچ کے جس کو کوئی ملال نہ تھا

وہ جس کے واسطے اس نے مجھے بھلایا تھا

ملال یہ تھا کہ اس میں کوئی کمال نہ تھا

میں چپ ضرور تھا، لیکن تجھے سمجھتا تھا

میں اپنے آپ میں اتنا بھی خوش خیال نہ تھا

 

کاشف سلطان

No comments:

Post a Comment