گیت
میرے ہمراہی سنو آؤ چلیں چاند کے پار
ایسی دنیا میں کہیں دور جس میں
نہ غم ہو نہ آنسو ہوں
نہ آہیں ہوں کہیں اور کچھ ہو
میرے آس پاس، تیرے آس پاس
میرے آس پاس، تیرے آس پاس
کبھی تنہا جو ہوئی تم
کسی جیون کے سفر میں
میری آواز سنو گی
کہیں میری دھڑکن میں
زندگی مجھ کو کبھی
تجھ سے جدا بھی کر دے
بند آنکھوں کے دریچوں میں
تجھے دیکھوں، تجھے دیکھوں گا
میرے سائے کی طرح
تم تو رہو گی ہر پل میں
میرے آس پاس، تیرے آس پاس
میرے آس پاس، تیرے آس پاس
خاور کیانی
No comments:
Post a Comment