اب اہل علم وفن کے نام نادانوں میں آتے ہیں
جنہیں مل جاتی ہے کرسی وہ بھگوانوں میں آتے ہیں
زمانہ زندگی بھر جن کو دیوانوں میں گنتا ہے
وہی مر کر زمانہ ساز انسانوں میں آتے ہیں
ابھی اڑ لینے دو دل کو طلب کے آسمانوں میں
پرندے تھک کے وقت شام کاشانوں میں آتے ہیں
نہیں صیّاد کی خوبی پڑی ہے خو اسیری کی
کبوتر خود پلٹ کر اپنے زندانوں میں آتے ہیں
مِری کشتی کو عادت موجوں سے اٹکھیلیوں کی ہے
اسی کو دیکھ کر ہی زور طوفانوں میں آتے ہیں
اگر باغی ہیں یہ بچے تو اپنا تجزیہ کر لو
ہمارے اپنے ہی گُن ہیں جو ٭سنتانوں میں آتے ہیں
جو حق تلفی پہ اپنی کہتے ہیں اللہ کی مرضی
مِرے نزدیک وہ انساں تن آسانوں میں آتے ہیں
جگا دیتے ہیں میٹھا درد کچھ بھولے ہوئے نغمے
نکل کر ساز کے تاروں سے جب کانوں میں آتے ہیں
ساز دہلوی
٭سنتانوں: اولادوں، سنتان (ہندی): اولاد
No comments:
Post a Comment