Tuesday, 11 October 2022

اب اہل علم وفن کے نام نادانوں میں آتے ہیں

 اب اہل علم وفن کے نام نادانوں میں آتے ہیں 

جنہیں مل جاتی ہے کرسی وہ بھگوانوں میں آتے ہیں

زمانہ زندگی بھر جن کو دیوانوں میں گنتا ہے

وہی مر کر زمانہ ساز انسانوں میں آتے ہیں

ابھی اڑ لینے دو دل کو طلب کے آسمانوں میں

پرندے تھک کے وقت شام کاشانوں میں آتے ہیں

نہیں صیّاد کی خوبی پڑی ہے خو اسیری کی

کبوتر خود پلٹ کر اپنے زندانوں میں آتے ہیں

مِری کشتی کو عادت موجوں سے اٹکھیلیوں کی ہے

اسی کو دیکھ کر ہی زور طوفانوں میں آتے ہیں

اگر باغی ہیں یہ بچے تو اپنا تجزیہ کر لو

ہمارے اپنے ہی گُن ہیں جو ٭سنتانوں میں آتے ہیں

جو حق تلفی پہ اپنی کہتے ہیں اللہ کی مرضی

مِرے نزدیک وہ انساں تن آسانوں میں آتے ہیں

جگا دیتے ہیں میٹھا درد کچھ بھولے ہوئے نغمے

نکل کر ساز کے تاروں سے جب کانوں میں آتے ہیں


ساز دہلوی

٭سنتانوں: اولادوں، سنتان (ہندی): اولاد

No comments:

Post a Comment