Wednesday, 22 September 2021

خسارہ در خسارہ کر رہے ہیں

 خسارہ در خسارہ کر رہے ہیں 

محبت ہم دوبارہ کر رہے ہیں 

ابھی دریا میں اترے ہی کہاں ہیں 

ابھی سے سب کنارہ کر رہے ہیں 

ہمیں وہ چھوڑ کر اپنائیں کس کو 

یہی تو استخارہ کر رہے ہیں 

تمہارے ساتھ جو بیتا، تھا جیون 

ابھی تو بس گزارہ کر رہے ہیں 

ہوئی بربادیوں کی سمت سارے

انہیں  شاید اشارہ کر رہیں 

محبت ہے تبھی تو ہم تمھاری

سبھی باتیں گوارا کر رہے ہیں 

ہماری مانتا ہی اب کہاں ہے

میاں یہ دل تمہارا کر رہے ہیں 

کوئی تو کام ہم کو بھی دکھاؤ 

بھلا جس میں ہمارا کر رہے ہیں 

خیالوں میں ہےاک چنچل سی لڑکی

وہ جس کا ہم  نظارا کر رہے ہیں

محبت کب تلک ہے ساتھ دیتی 

کسے اپنا سہارا کر رہے ہیں

اُسے بس آخری آواز دے کر 

محبت کا نتارا کر رہے ہیں 


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment