خاک زادوں کے لیے ایک نظم
خاک زادوں کا ہونا یونہی مت سمجھ
خاک زادوں کا ہونا بڑی بات ہے
خاک پر زندگی کی جو افتاد ہے
خاک زادوں سے ہے
خاکروبوں سے ہے
مل کے مزدور سے
کھیت میں کام کرتے کسانوں سے ہے
گرم بھٹی میں لوہا تپاتے ہوئے
اور درانتی ہتھوڑا بناتے ہوئے
ان لوہاروں سے ہے
اور لوگوں کے پانووں کو کجنے لیے
اور، دھاگے سے چمڑے کو سیتے ہوئے موچیوں
جوتا سازوں سے ہے
تپتی دوپہر میں جھلجھلاتی ہوئی
گرم لو میں پسینہ بہاتے ہوئے
گیلی مٹی سے اینٹیں بناتے ہوئے
ان تھپیڑوں سے ہے
رات دن کولتاروں کی سڑکوں پہ گاڑی چلاتے ہوئے
گاڑی بانوں سے ہے
اور سمندر کے نمکین پانی سے لڑتے ہوئے
اپنے جُسّے کھپاتے ہوئے
مچھلیاں ٹوکروں میں بھرے
ان مچھیروں سے ہے
پھل فروشوں سے ہے
ریڑھی بانوں سے ہے
جو زمینوں سے ہے جو زمانوں سے ہے
خاک زادوں کی محنت کی تانوں سے ہے
خاک زادوں کو ہونا یونہی مت سمجھ
اشکر فاروقی
No comments:
Post a Comment